[center:wn45u2zm]عجوہ کھجور کی فضیلت
[/center:wn45u2zm]


[right:wn45u2zm]عجوہ کھجور کی فضیلت !

عجوہ کھجور حضور اکو محبوب ترین کھجوروں میں تھی‘ یہ مدینہ منورہ زادہا اللہ شرفاً وتعظیماً کی عمدہ ترین‘ انتہائی لذیذ‘ مفید سے مفیدتر‘ قیمتاً بہت ہی عالی اور اعلیٰ قسم کی کھجور ہے۔
حدیث میں اس کے متعلق آیا ہے کہ یہ جنت کی کھجور ہے‘ اس میں دوران سر سے‘ قلب مرض سے شفا کا ہونا وارد ہے‘ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ: ”نہار منہ اس کے سات عدد کھانے میں زہر اور سحر سے حفاظت ہوگی۔“
علماء نے لکھا ہے کہ اس کھجور کا درخت آپ انے اپنے دست بابرکت سے لگایا‘ اس مضمون میں اسی بابرکت کھجور کے متعلق چند باتیں جمع کی گئیں ہیں‘ حق تعالیٰ اس حقیر کاوش کو مفید ونافع بنائے اور راقم کے لئے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین۔

عجوہ کھجور کی تاثیر سحر وزہر سے حفاظت
”عن سعد قال: سمعت رسول اللّٰہ ا یقول: من تصبح بسبع تمرات عجوة لم یضرہ ذلک الیوم سم ولاسحر“۔ (۱)
ترجمہ:․․․․”حضرت سعدبن ابی وقاص (۲) کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص صبح کے وقت کوئی اور چیز کھانے سے پہلے سات عجوہ کھجوریں کھائے گا‘ اس کو اس دن کوئی زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچائے گا“۔

تشریح
عجوة مدینہ منورہ کی کھجوروں میں سے ایک قسم ہے‘جو صیحانی(۳) سے بڑی اور مائل بہ سیاہی ہوتی ہے‘ یہ قسم مدینہ منورہ کی کھجوروں میں سب سے عمدہ اور اعلیٰ ہے۔
”زہر“ سے مراد وہی زہر ہے جو مشہور ہے (یعنی وہ چیز جس کے کھانے سے آدمی مرجاتا ہے) یا سانپ ‘ بچھو اور ان جیسے دوسرے زہریلے جانوروں کا زہر بھی مراد ہوسکتا ہے۔
مذکورہ خاصیت (یعنی دافع سحر وزہر ہونا) اس کھجور میں حق تعالیٰ کی طرف سے پیداکی گئی ہے‘ جیساکہ قدرت نے از قسم نباتات دوسری چیزوں (جڑی بوٹیوں وغیرہ) میں مختلف اقسام کی خاصیتیں رکھی ہیں‘ یہ بات آنحضرت اکو بذریعہٴ وحی معلوم ہوئی ہوگی کہ (عجوہ) کھجور میں یہ خاصیت ہے‘ یا یہ کہ آنحضرت ا کی دعا کی برکت سے اس کھجور میں یہ خاصیت ہے (۴) عجوہ کا درخت آنحضرت ا نے اپنے دست مبارک سے لگایا۔
علامہ ابن اثیری کہتے ہیں کہ عجوہ صیمانی سے بڑی ہے‘ اس کا درخت خود نبی کریم ا نے اپنے دست اطہر سے لگایا تھا:
”ضرب من التمر اکبر من الصیمانی وہو مما غرسہ المصطفیا بیدہ فی المدینة“ (۵)
سات کے عدد میں حکمت
جہاں تک سات کے عدد کی تخصیص کا سوال ہے تو اس کی وجہ شارع کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں‘ بلکہ اس کا علم توقیفی ہے یعنی آنحضرت ا سے سماعت پر موقوف ہے کہ آپ ا نے سات ہی کا عدد فرمایا اور سننے والوں نے اسی کو نقل کیا‘ نہ تو آنحضرت ا نے اس کی تخصیص کی وجہ بیان فرمائی اور نہ سننے والوں نے دریافت کیا‘ جیساکہ رکعات وغیرہ کے اعداد کا مسئلہ ہے۔ (۶)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ سات ہی کا عدد بہتر اور مناسب ہے‘ اس کی حکمت اور حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں (۷)
امام نووی فرماتے ہیں: حضور ا کا کھجور کی تمام اقسام میں سے عجوہ کو خصوصیت دینا اور پھر سات کے عدد کے ساتھ مخصوص فرمانا یہ امور اسرار سے ہیں جن کی حکمت ہم تو نہیں سمجھ سکتے‘ لیکن جو کچھ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا ہے، اس پر ایمان رکھنا واجب ہے اور یہی اعتقاد رکھنا چاہئے کہ عجوہ ہی کو برتری وفضیلت ہے اور اس میں بھی ضرور کوئی حکمت ہے۔ (۸)

سات کے عدد میں عجیب نقطہ
بعض اہل علم نے نماز میں سات فرائض کی حکمت یہ لکھی ہے کہ انسان کا جسم سات چیزوں سے بنا ہے ۱:․․․ مغز یعنی بھیجا‘ ۲:․․․رگیں‘۳:․․․گوشت‘ ۴:․․․پٹھے‘ ۵:․․․ہڈیاں‘ ۶:․․․خون‘ ۷:․․․جلد یعنی کھال‘ یہ سب سات ہوئے ،ان ساتوں اجزاء کے شکریہ میں سات فرض رکھے گئے‘ ہرایک چیز کا شکریہ ایک فرض۔(۹)
کیا بعید ہے کہ اللہ کے نبی ا نے سات کھجور کھانے کی تاثیر یہ بیان فرمائی کہ انسان کا جسم سات اشیاء سے بنا ہے‘ ہر شئی کے بدلہ میں ایک کھجور ۔

سات عدد کے متعلق علامہ ابن قیم کی تحریر
حافظ ابن قیم جوزی سات کے عدد کی حکمت بیان فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:
”رہ گئی سات عدد کی بات تو اس کو حساب اور شریعت دونوں میں خاص مقام حاصل ہے‘ خدا تعالیٰ نے سات آسمان بنائے‘ سات زمین پیدا کیں‘ ہفتے کے سات دن مقرر فرمائے‘ انسان کی اپنی تخلیق سات مرحلوں میں ہوئی‘ خدا تعالیٰ نے اپنے گھر کا طواف اپنے بندوں کے ذمہ سات چکروں سے شروع کیا‘ سعی بین الصفا والمروة کے چکر بھی سات مرتبہ شروع کئے‘ عیدین کی تکبیریں سات ہیں‘ سات برس کی عمر میں بچوں کو نماز پڑھنے کی ترغیب دلانے کا حکم ہوا ‘ حدیث میں ہے:
”مروہم بالصلاة وہم سبع سنین “۔
یعنی اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو۔
پیغمبر خدا ا نے اپنے مرض میں سات مشکیزہ پانی سے غسل کرانے کے لئے فرمایا: خدانے قوم عاد پر طوفان سات رات تک جاری رکھا۔
رسول اللہ ا نے دعا فرمائی کہ: خدائے پاک! میری مدد فرما ایسے سات سے جیسے سات حضرت یوسف علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے۔
خداکی طرف سے صدقہ کا ثواب جو صدقہ دینے والوں کو ملے گا سات بالیوں سے (جو ایک دانہ سے اگتی ہیں جن میں سو‘سو دانے ہوں) تشبیہ دی‘ اور وہ خواب جو حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا اس میں سات بالیاں ہی نظر آئی تھیں اور جن سالوں میں کاشت نہایت عمدہ ہوئی‘ وہ سات سال تھے اور صدقہ کا اجر سات سوگنا تک اور اس سے بھی زائد۔ سات کے ضرب کے ساتھ ملے گا۔
اس سے اندازہ ہوا کہ سات کے عدد میں ایسی خاصیت ہے جو دوسرے عدد کو حاصل نہیں‘ اس میں عدد کی ساری خصوصیات مجتمع ہیں‘ اور اطباء کو سات کے عدد سے خاص ربط ہے۔ خصوصیت سے ایام بحران میں بقراط کا مقولہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز سات اجزاء پر مشتمل ہے ۔ ستارے سات‘ ایام سات‘ بچہ کی طفولیت کی عمر سات‘ پھر صبی چودہ سال‘ پھر مراہق‘ پھر جو ان‘ پھر کہو لت‘ پھر شیخ پھر ہرم اور خدائے پاک ہی کو اس عدد کے مقرر کرنے کی حکمت معلوم ہے ‘اس کا وہی مطلب ہے جو ہم نے سمجھایا ،اس کے علاوہ کوئی معنی ہے اور اس عدد کا نفع خاص اس چھوہارے کے سلسلے میں جو اس ارض مقدس کا ہو اور اس علاقے کا جو جادو اور زہر سے دفاع کرتا ہے‘ اس کے اثرات اس کے کھانے کے بعد روک دیئے جاتے ہیں‘ کھجور کے اس خواص کو اگر بقراط وجالینوس وغیرہ اطباء بیان کرتے تو اطباء کی جماعت آنکھ بند کرکے تسلیم کر لیتی اور اس پر اس طرح یقین کرتی جیسے نکلتے آفتاب پر یقین رکھتی ہے‘ حالانکہ یہ اطباء خواہ کسی درجہ کے عاقل ہوں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ ان کی رسا عقل اور اٹکل یا گمان ہوتا ہے۔ ہمارا پیغمبر جس کی ہر بات یقینی اور قطعی اور کھلی دلیل وحی الٰہی ہو‘ اس کا قبول وتسلیم کرنا تو بہرحال ان اطباء سے زیادہ حسن قبولیت کا مستحق ہے‘ نہ کہ اعتراض کا مقام ہے اور زہر کی دافع دوائیں کبھی بالکیفیت اثر انداز ہوتی ہیں‘ بعض بالخاصیة اثر انداز ہوتی ہیں ۔(۱۰)
عجوہ میں شفاء ہے

”عن عائشة  ان رسول اللّٰہ اقال ان فی العجوة شفاء وانہا تریاق اول البکرة“۔ (۱۱)
ترجمہ:․․․․”حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا” عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں شفاء ہے اور وہ زہر وغیرہ کے لئے تریاق کی خاصیت رکھتی ہیں‘ جب کہ اس کو دن کے ابتدائی حصہ میں (یعنی نہار منہ کھایا جائے)۔“

تشریح:
مدینہ منورہ کے اطراف قبا کی جانب جو علاقہ بلندی پر واقع ہے، وہ عالیہ یا عوالی کہلاتا ہے، اسی مناسبت سے ان اطراف میں جتنے گاؤں اور دیہات ہیں‘ ان سب کو عالیہ یا عوالی کہتے ہیں‘ اسی سمت میں نجد کا علاقہ ہے‘ اور اس کے مقابل سمت میں جو علاقہ ہے وہ نشیبی ہے اور اس کو سافلہ کہا جاتا ہے، اس سمت میں ”تہامہ“ کا علاقہ ہے‘ اس زمانہ میں عالیہ یا عوالی کا سب سے نزدیک والا گاؤں مدینہ سے تین یا چار میل اور سب سے دور والا گاؤں سات یا آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع تھا
”عالیہ کی عجوہ میں شفا ہے“ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ دوسری جگہوں کی عجوہ کھجوروں کی بہ نسبت عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں زیادہ شفا ہے‘ یا اس سے حدیث سابق کے مطلق مفہوم کی تقیید مراد ہے یعنی پچھلی حدیث میں مطلق عجوہ کھجور کی جو تاثیر وخاصیت بیان کی گئی ہے‘ اس کو اس حدیث کے ذریعہ واضح فرمادیا گیا ہے کہ مذکورہ تاثیر وخاصیت عالیہ کی عجوہ کھجوروں میں ہوتی ہے۔
تریاق ”ت“ کے پیش اور زبر دونوں کے ساتھ آتاہے‘ وہ مشہور دوا ہے جو دافع زہر وغیرہ ہوتی ہے۔ (۱۲)

عجوہ میں دوران سر سے شفا
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ  عجوہ کھجوروں کو دوران سر (جو بہت مشہور مرض ہے) کے لئے استعمال کرنے کا حکم فرمایا کرتی تھیں (۱۳)
عجوہ کی یہ خصوصیت دائمی ہے
حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ عجوہ کی یہ خصوصیات صرف زمانہ مبارک نبویہ کے ساتھ ہی مقید نہیں‘ بلکہ عمومی اور دوامی ہیں (۱۴)

قلب کے مرض کی شفا عجوہ کے ذریعہ
”عن سعد قال مرضت مرضاً اتانی النبی ا یعودنی فوضع یدہ بین ثدیی حتی وجدت بردہا فی فؤادی وقال انک رجل مفئود ائت الحارث بن کلدة اخا ثقیف فانہ رجل یتطبب فلیاخذ سبع تمرات من عجوة المدینة فلیجأ ہن بنواہن ثم لیلدک بہن“۔ (۱۵)
ترجمہ:․․․”حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شدید بیمار ہوا‘ آپ ا میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور آپ ا نے اپنا دست مبارک میری چھاتیوں کے درمیان رکھا اور اتنی دیر تک رکھا کہ میں نے اپنے قلب میں آپ ا کے دست مبارک کی خنکی (ٹھنڈک) محسوس کی‘ اس کے بعد آپ ا نے فرمایا: تم کو قلب کی شکایت ہے‘ جاؤ حارث بن کلدہ کے پاس جاکر اپنا علاج کراؤ جو بنو ثقیف کا بھائی ہے اور وہ طبیب ہے‘ پس اسے چاہئے کہ مدینہ طیبہ کی سات کھجوریں لے کر اور انہیں ان کی گھٹلیوں سمیت پی لے اور ان کا مالیدہ سا بناکر تمہارے منہ میں ڈالے“۔
عجوہ میں جنون سے شفا ہے

”قال رسول اللہ ا العجوة من الجنة وہی شفاء من الجنة“۔ (۱۶)
ترجمہ:․․․”آپ انے فرمایا: عجوہ جنت سے ہے اور اس میں جنون سے شفا ہے“۔
عجوہ جنت کی کھجور ہے

”عن ابی ہریرہ قال: قال رسول اللّٰہ ا العجوة من الجنة وما فیہا شفاء من السم والکماة من المن وماء ہا شفاء للعین“ ۔ (۱۷)
ترجمہ:․․․”حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : عجوہ جنت کی کھجور ہے اور اس میں زہر سے شفاء ہے اور کمأة (کھنبی) (۱۸) من (کی ایک قسم) اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفاء ہے“۔

تشریح:
”عجوہ جنت کی کھجور ہے“ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ عجوہ کی اصل جنت سے آئی ہے‘ یا یہ کہ جنت میں جو کھجور ہوگی وہ عجوہ ہے اور یایہ کہ عجوہ ایسی سودمند اور راحت بخش کھجور ہے گویا وہ جنت کا میوہ ہے‘ زیادہ صحیح مطلب پہلا ہی ہے۔

عجوہ جنت کا میوہ ہے
ایک روایت میں ہے کہ ”العجوة من فاکہة الجنة“ یعنی عجوہ جنت کا میوہ ہے‘ ان روایات میں عجوہ کی برکت اور اس کی منفعت میں مبالغہ مقصود ہے کہ عجوہ جنت کا میوہ ہے اور جنت کا کھا نا تعب وتکلیف کو دور کرتا ہے۔ (۲۰)
علامہ ابن قیم جوزی اسی حدیث کو نقل فرماکر تحریر فرماتے ہیں: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس عجوہ سے مراد مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور یں ہیں جو وہاں کی کھجور کی ایک عمدہ قسم ہے‘ حجازی کھجوروں میں سب سے عمدہ اور مفید ترین کھجور ہے‘ یہ کھجور کی اعلیٰ قسم ہے‘ انتہائی لذیذ اور مزیدار ہوتی ہے‘ جسم اور قوت کے لئے موزوں ہے‘ تمام کھجوروں سے زیادہ رس دار لذیذ اور عمدہ ہوتی ہے۔ (۲۱)

زمین پر تین چیزیں جنت کی ہیں
حضرت ابوہریرہ کی روایت میں ہے:

”لیس من الجنة فی الارض شئی الا ثلاثة اشیاء: غرس العجوة‘ والحجر‘ واواق تنزل فی الفرات کل یوم برکة من الجنة“۔ (۲۲)
ترجمہ:․․․”زمین پر جنت کی چیزوں میں سے تین چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں: ۱:․․․عجوہ کھجور کا پودا (درخت) ۲:․․․ حجر اسود‘ ۳:․․․ اور وہ برکت کی مقدار کثیر جو روزانہ جنت سے دریائے فرات پر اترتی ہے“۔
عجوہ جنت کا میوہ ہے‘ اس کے متعلق مختلف روایتیں ہیں‘ ایک روایت میں ”العجوة من فاکہة الجنة“ (۲۳) عجوہ جنت کا میوہ ہے‘ ایک روایت میں ہے: ”العجوة والصخرة والشجرة من الجنة اور (بیت المقدس کا) پتھر (چٹان) (۲۴) اور (بیعت رضوان والا) درخت جنت سے ہیں۔
علامہ عبد الرؤف مناوی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
”یہ عجوہ شکل وصورت ونام میں جنت کے عجوہ کے مشابہ ہے‘ لذت اور مزہ میں مشابہ نہیں‘ اس لئے کہ جنت کا کھانا دنیوی طعام کے مشابہ نہیں ۔ “(۲۵)
عجوہ آپ ا کو محبوب تھی

”عن ابن عباس کان احب التمر الی رسول اللّٰہ ا العجوة“۔(۲۶)
”حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ تمر کی تمام قسموں میں محبوب ترین رسول اللہا کے نزدیک عجوہ تھی“۔

حوالہ جات
۱- بخاری‘ کتاب الطب باب الدواء بالعجوة للسحر‘
۲- مرقاةج:۸‘ص:۱۷۴
۳- کھجوروں کے اقسام میں سے صیحانی بھی ہے‘ کہا جاتاہے کہ ایک باغ میں حبیب کبریاء ا کا گذرہوا تو اس کھجور کے ایک درخت نے آپ کی رسالت ونبوت کی گواہی دی‘ اس کا پھل صیحانی کہلاتاہے (تاریخ المدینة المنورة ص:۷۸)
۴- مظاہر حق جدید ج:۴‘ ص:۹۵
۵- فیض القدیر ج:۴‘ ص:۴۹۵ تحت رقم الحدیث ۵۶۷۸
۶- مظاہر حق ج:۴‘ ص:۹۵
۷- فتح الباری ج:۱۰‘ ص:۱۹۷
۸- مسلم ‘ کتاب الاشربة‘ باب فضل تمر المدینة
۹- معراج المؤمنین ص:۲۲
۱۰- طب نبوی ص: ۱۹۹ (اردو)
۱۱- مسلم‘ کتاب الاشربة‘ باب فضل تمر المدینة
۱۲- مظاہر حق‘ ج:۴‘ ص:۹۶‘ مرقاة‘ ج:۸‘ ص:۱۷۵
۱۳- جذب القلوب ص:۲۹ بحوالہ تاریخ المدینة المنورة ص:۷۷
۱۴- فتح الباری ج:۱۰‘ ص:۱۹۷
۱۵- ترجمان السنة ج:۴‘ ص:۱۳۵ ابوداؤد کتاب الطب باب فی تمر العجوة
۱۶- ابن ماجة‘ ابواب الطب‘ باب الکمأة والعجوة
۱۷- مشکوٰة‘ کتاب الاطعمة‘ فصل ثانی کی آخری حدیث‘ ترمذی‘ کتاب الطب‘ باب ما جاء فی الکمأة والعجوة
۱۸-مظاہر حق ج:۴‘ ص:۱۱۶
۱۹- مرقاة ج:۸‘ ص:۱۹۶
۲۰- طب نبوی (اردو) ص:۶۲۵
۲۱- کنز العمال ج:۱۲‘ ص:۲۱۶ رقم الحدیث ۳۴۷۳۶‘ فیض القدیر ج:۵‘ ص:۴۸۵ رقم الحدیث ۷۶۶۸
۲۲- فیض القدیر ج:۴‘ ص:۴۹۵ رقم الحدیث ۵۶۷۸
۲۳- ایضا رقم الحدیث ۵۶۷۹
۲۴- بعض حضرات نے صخرہ کا ترجمہ صخرہ کھجور سے کیا ہے یعنی عجوہ اور صخرہ دونوں جنت کی کھجوروں میں سے ہیں (تاریخ مدینة المنورة ص:۷۷)
۲۵- فیض القدیرج:۴‘ ص:۴۹۵
۲۶- فیض القدیر ج:۵‘ص:۱۰۵ رقم الحدیث ۶۵۰۲
[/right:wn45u2zm]